حدیث نمبر: 7291
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى بِوَقْصِ الْبَقَرِ فَقَالَ: " لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْوَقْصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن دینار، طاؤس رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس گائے کا عمدہ بچہ لایا گیا تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایسے کرنے کا حکم نہیں دیا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْوَقَصُ» ”وقص“ وہ جانور ہے جو فریضہ کو نہ پہنچا ہو۔
حسن بن عمارہ فرماتے ہیں کہ جو روایت حکم نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی وہ حجت نہیں کہ انہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا گیا: ”تجھے کیا حکم دیا گیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تیس گائے میں سے ایک بچھیا بچھڑا لوں اور ہر چالیس میں سے ایک «الْمُسِنَّةُ» ”مسنہ“ لوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7291
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»