السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الدليل على أن من أدى فرض الله في الزكاة فليس عليه أكثر منه إلا أن يتطوع سوى ما مضى في الباب قبله باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس نے زکوٰۃ میں اللہ کا فرض ادا کر دیا تو اس پر اس سے زیادہ کچھ واجب نہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے نفلی صدقہ کرے، ماسوائے اس کے جو پچھلے باب میں گزر چکا ہے
حدیث نمبر: 7240
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ وَمَنْ جَمَعَ مَالًا حَرَامًا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نے زکاۃ ادا کر دی تو تو نے وہ ادا کر دیا جو تجھ پر فرض ہے اور جس نے مالِ حرام اکٹھا کیا، پھر صدقہ کیا تو اسے اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ الٹا اس پر اس کا وبال پڑے گا۔“