السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الدليل على أن من أدى فرض الله في الزكاة فليس عليه أكثر منه إلا أن يتطوع سوى ما مضى في الباب قبله باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس نے زکوٰۃ میں اللہ کا فرض ادا کر دیا تو اس پر اس سے زیادہ کچھ واجب نہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے نفلی صدقہ کرے، ماسوائے اس کے جو پچھلے باب میں گزر چکا ہے
حدیث نمبر: 7239
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ كَنْزِكَ فَقَدْ ذَهَبَ شَرُّهُ " فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا وَهَذَا أَصَحُّ وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نے اپنے کنز کی زکاۃ ادا کر دی تو اس کا شر ختم ہو گیا۔“