السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الدليل على أن من أدى فرض الله في الزكاة فليس عليه أكثر منه إلا أن يتطوع سوى ما مضى في الباب قبله باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس نے زکوٰۃ میں اللہ کا فرض ادا کر دیا تو اس پر اس سے زیادہ کچھ واجب نہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے نفلی صدقہ کرے، ماسوائے اس کے جو پچھلے باب میں گزر چکا ہے
حدیث نمبر: 7241
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ ⦗١٤٢⦘ عُذَافِرٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا: " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَقَدْ أَدَّى الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِ وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ نبی کریم ﷺ سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی، اس نے وہ حق ادا کر دیا جو اس پر تھا اور جس نے اضافی دیا، وہ اس کے لیے فضیلت کا باعث ہوگا۔“