السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من خروج الدم من غير مخرج الحدث باب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
حدیث نمبر: 668
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَلِيٌّ أَبُو الْحُسَنِ بْنُ زَاطِيَا، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الدِّمَشْقِيِّ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ الْوُضُوءُ مِنَ الرُّعَافِ، وَالْقَيْءِ، وَمَسِّ الذَّكَرِ، وَمَا مَسَّتِ النَّارُ بِوَاجِبٍ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " فَقَالَ: إِنَّ قَوْمًا سَمِعُوا وَلَمْ يَعُوا، كُنَّا نُسَمِّي غَسْلَ الْيَدِ وَالْفَمِ وُضُوءًا وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَإِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَغْسِلُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَفْوَاهَهُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نکسیر، قے، شرمگاہ کو چھونے اور جس (چیز) کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ ان سے کہا گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو کرو۔“ انہوں نے کہا: لوگوں نے سنا تو ہے لیکن اس کو یاد نہیں رکھا۔ ہم ہاتھوں کو دھونے اور منہ کے دھونے کا نام وضو رکھا کرتے تھے اور یہ واجب نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مومنوں کو حکم دیا کہ آگ پر پکی چیزوں سے اپنے ہاتھ اور منہ دھوئیں اور یہ واجب نہیں ہے۔