السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من خروج الدم من غير مخرج الحدث باب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ أَوْ قَلَسَ أَوْ رَعَفَ فَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ ابْنُ عَيَّاشٍ مَرَّةً هَكَذَا وَمَرَّةً قَالَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ أَبِي عِصْمَةَ، ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مَا رَوَى عَنِ الشَّامِيِّينَ صَحِيحٌ، وَمَا رَوَى عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ فَلَيْسَ بِصَحِيحٍ. قَالَ: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ حَدِيثِ ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ " الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عَيَّاشٍ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ أَبِيهِ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ عَائِشَةَ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی کو نماز میں قے، سبز رنگ کا پانی یا نکسیر آئے تو وہ وضو کرے، پھر جو نماز پڑھ لی اسی پر بنیاد رکھے جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قے کی یا اسے نکسیر آئی“ باقی مکمل حدیث ذکر کی۔
ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن عیاش نے ایک مرتبہ اسی طرح اور ایک مرتبہ ابن جریج عن ابیہ عن عائشہ کی سند سے روایت کیا ہے اور دونوں محفوظ نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسماعیل بن عیاش جو شامیوں سے روایت کرے وہ صحیح ہے اور جو اہلِ حجاز سے روایت کرے وہ صحیح نہیں، اس حدیث کو ابن جریج نے صرف اپنے والد سے روایت کیا ہے، اسے متصل سند سے بیان نہیں کیا اور اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے۔