کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
حدیث نمبر: 663
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ فَأَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ لَا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ دَمًا، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا ⦗٢٢٠⦘ فَقَالَ: " مَنْ رَجُلٌ يَكْلَأُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ " فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: " فَكُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ "، فَلَمَّا أَنْ خَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ أَوَّلُهُ أَوْ آخِرُهُ؟ قَالَ: " بَلِ اكْفِنِي أَوَّلَهُ "، فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى زَوْجُ الْمَرْأَةِ، فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ عَادَ لَهُ الثَّالِثَةَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبُهُ فَقَالَ: اجْلِسْ، فَقَدْ أُثْبِتَّ، فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نَذَرَا بِهِ فَهَرَبَ فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ أَفَلَا أَهْبَبْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِدَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَآذَنْتُكَ، وَايْمُ اللهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعْتُ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا، أَوْ أُنْفِدَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں کھجوروں کے موسم میں نکلے، تو ایک مسلمان کسی مشرکہ عورت پر واقع ہوا، جب رسول اللہ ﷺ واپسی کے لیے چلے تو اس عورت کا خاوند آیا اور وہ صحابی غائب تھا، جب اس کو خبر ہوئی تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اصحابِ محمد ﷺ میں خون ریزی نہ کر لے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے نشاناتِ قدم کے پیچھے پیچھے چلا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور فرمایا: ”آج رات ہماری پہرے داری کون کرے گا؟“ ایک مہاجر اور ایک انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم (یہ کام کریں گے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں وادی کے شروع میں چلے جاؤ۔“ جب وہ وادی کے شروع والے حصے میں جانے کے لیے نکلے تو انصاری نے مہاجر سے کہا: تجھے رات میں کون سا حصہ پسند ہے، یعنی تو رات کے ابتدائی حصے میں سوئے گا یا آخری میں، تاکہ میں تیری طرف سے پہرے داری کروں؟ مہاجر نے کہا: رات کے ابتدائی حصے میں۔ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری نے کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔ اس عورت کا خاوند آیا، اس نے دیکھا کہ کوئی محافظ ہے تو اس نے تیر پھینکا جو اس کے جسم میں پیوست ہو گیا، انصاری نے اسے کھینچ کر نکال دیا اور اپنی جگہ کھڑے نماز جاری رکھی، اس نے دوسرا تیر پھینکا، وہ بھی جسم میں پیوست ہو گیا، انصاری نے اسے بھی کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہوا، پھر اس نے رکوع و سجود کیا، پھر اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا: اٹھ بیٹھ اب تیری باری ہے، تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جب آدمی نے دونوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ وہ چوکنے ہو گئے ہیں تو وہ دوڑ گیا، جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! تو نے مجھے تیر لگنے کے بعد کیوں نہ اٹھا دیا؟ انصاری نے کہا: میں ایسی سورت پڑھ رہا تھا کہ میں نے ناپسند کیا کہ اسے مکمل کرنے سے پہلے روک دوں، جب اس نے مجھ پر مسلسل تیر پھینکے تو میں نے نماز مکمل کی اور تجھے بتلایا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے پہرے کے ضائع ہونے کا ڈر نہ ہوتا جس کی حفاظت کا رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، تو اس سورت کے مکمل کرنے سے پہلے میری جان بھی چلی جاتی تو مجھے پروا نہ تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 663
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 198»
حدیث نمبر: 664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا وَفِي آخِرِهِ فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ قَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ ‍‍‍ أَلَا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ "، قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسی کے ہم معنی مختصر روایت بیان کی ہے، اس کے آخر میں ہے: جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ تو نے مجھے کیوں نہیں بتایا جب اس نے پہلی دفعہ (تیر) مارا تھا؟ اس نے کہا: میں ایک سورت پڑھ رہا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو درمیان میں کاٹ دوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 664
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 198»
حدیث نمبر: 665
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ " إِذَا احْتَجَمَ غَسَلَ مَحَاجِمَهُ " وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ هَذَا، وَعَنْ رَجُلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اغْسِلُوا أَثَرَ الْمَحَاجِمِ عَنْكُمْ وَحَسْبُكُمْ وَرُوِّينَاهُ فِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب سینگی لگواتے تو سینگی والی جگہوں کو دھوتے۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”تو اپنے جسم سے سینگی کے نشانات کو دھو ڈال۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 665
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 666
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلٍ، نا أَبِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ الْقُرَشِيُّ بِالرَّقَّةِ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى غَسْلِ مَحَاجِمِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی، نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور نہ ہی سینگی والی جگہوں سے زیادہ کسی عضو کو دھویا۔ (جہاں سینگی لگی تھی صرف اسی کو دھویا)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 666
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/151»
حدیث نمبر: 667
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيَّ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " عَصَرَ بَثْرَةً فِي وَجْهِهِ فَخَرَجَ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ فَحَكَّهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " ورُوِّينَا فِي مَعْنَى هَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، ثُمَّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ، وَطَاوُسٍ، وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ لَيْسَ عَلَى الْمُحْتَجِمِ وُضُوءٌ.
حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، آپ نے اپنے پھوڑے کو دبایا تو اس سے کچھ خون نکلا جو انہوں نے اپنی دو انگلیوں کے درمیان کھرچ دیا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم بن عبداللہ، حسن اور طاؤس، قاسم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں: سینگی لگوانے پر وضو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 667
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1469»
حدیث نمبر: 668
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَلِيٌّ أَبُو الْحُسَنِ بْنُ زَاطِيَا، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الدِّمَشْقِيِّ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ الْوُضُوءُ مِنَ الرُّعَافِ، وَالْقَيْءِ، وَمَسِّ الذَّكَرِ، وَمَا مَسَّتِ النَّارُ بِوَاجِبٍ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " فَقَالَ: إِنَّ قَوْمًا سَمِعُوا وَلَمْ يَعُوا، كُنَّا نُسَمِّي غَسْلَ الْيَدِ وَالْفَمِ وُضُوءًا وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَإِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَغْسِلُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَفْوَاهَهُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نکسیر، قے، شرمگاہ کو چھونے اور جس (چیز) کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ ان سے کہا گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو کرو۔“ انہوں نے کہا: لوگوں نے سنا تو ہے لیکن اس کو یاد نہیں رکھا۔ ہم ہاتھوں کو دھونے اور منہ کے دھونے کا نام وضو رکھا کرتے تھے اور یہ واجب نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مومنوں کو حکم دیا کہ آگ پر پکی چیزوں سے اپنے ہاتھ اور منہ دھوئیں اور یہ واجب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 668
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الكبير 134»
حدیث نمبر: 669
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ أَوْ قَلَسَ أَوْ رَعَفَ فَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ ابْنُ عَيَّاشٍ مَرَّةً هَكَذَا وَمَرَّةً قَالَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ أَبِي عِصْمَةَ، ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مَا رَوَى عَنِ الشَّامِيِّينَ صَحِيحٌ، وَمَا رَوَى عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ فَلَيْسَ بِصَحِيحٍ. قَالَ: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ حَدِيثِ ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ " الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عَيَّاشٍ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ أَبِيهِ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی کو نماز میں قے، سبز رنگ کا پانی یا نکسیر آئے تو وہ وضو کرے، پھر جو نماز پڑھ لی اسی پر بنیاد رکھے جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قے کی یا ڈکار لی۔۔۔“ باقی مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 669
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه ابن ماجه 1221»
حدیث نمبر: 670
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: ⦗٢٢٣⦘ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ طَيْفُورٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ، أَوْ قَلَسَ، أَوْ وَجَدَ مَذْيًا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلِيَرْجِعْ فَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهٍ، مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ " قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، فَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ لَيْسَتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ بِثَابِتَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَهُ مَعَ مَا رُوِيَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ عَلَى غَسْلِ بَعْضِ الْأَعْضَاءِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مَرَّةً هَكَذَا مُرْسَلًا كَمَا رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ وَهُوَ الْمَحْفُوظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: فِيمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا كَانَا يَرْعَفَانِ فَيَتَوَضَّآنِ، وَيَبْنِيَانِ عَلَى مَا صَلَّيَا فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُمَا لَمْ يَكُونَا يَرَيَانِ فِي الدَّمِ وُضُوءًا وَإِنَّمَا مَعْنَى وَضُوئِهِمَا عِنْدَنَا غَسْلُ الدَّمِ وَمَا ⦗٢٢٤⦘ أَصَابَ مِنَ الْجَسَدِ لَا وُضُوءَ الصَّلَاةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ غَسَلَ يَدَيْهِ مِنْ طَعَامٍ ثُمَّ مَسَحَ بِبَلَلِ يَدَيْهِ وَجْهَهُ وَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَهَذَا مَعْرُوفٌ مِنْ كَلَامِ الْعَرَبِ يُسَمَّى وَضُوءٌ لِغَسْلِ بَعْضِ الْأَعْضَاءِ لَا لِكَمَالِ وُضُوءِ الصَّلَاةِ فَهَذَا مَعْنَى مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرُّعَافِ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَيْسَتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ بِثَابِتَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى هَذَا يُحْمَلُ مَا رُوِيَ عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْءِ إِنْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قے، سبز رنگ کا پانی یا مذی پائے اور وہ نماز میں ہو تو وہ پھر جائے، وضو کرے اور واپس آکر اپنی گزشتہ نماز پر بنیاد رکھے، جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔“
(ب) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابن جریج سے مرسل ہونا صحیح ہے۔
(ج) ابن جریج کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے اور اس کو اسماعیل بن عیاش روایت کرتے ہیں، ثابت نہیں۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن جریج جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یہ بھی نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے جو روایت کی ہے، اس کو بعض نے اعضا کے دھونے پر محمول کیا ہے۔
(ر) شیخ کہتے ہیں کہ اس کو اسماعیل بن عیاش مرسل بیان کرتا ہے، ایک جماعت ابن جریج سے محفوظ بیان کرتی ہے اور وہ مرسل ہی ہے۔
(ز) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے جو منقول ہے کہ وہ دونوں ڈکار لیتے، پھر وضو کرتے، یہ اس وقت ہوتا جب وہ نماز پڑھ چکے ہوتے۔ ہم نے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں خون بہنے میں وضو کے قائل نہیں، ہمارے ہاں اس سے مراد خون دھونا ہے اور جو چیز جسم کو لگی ہے نہ کہ نماز والا وضو۔
(س) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ہاتھوں کی تری کو چہرے پر پھیرا اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو جو بے وضو نہیں ہوا۔“ عربوں کے کلام میں معروف ہے کہ وہ بعض اعضا دھونے کو وضو کہتے تھے، صرف نماز کے لیے کہے جانے والے کو وضو نہیں کہتے تھے۔ ابن جریج سے جو روایت ڈکار کے متعلق وضو کرنے میں ہے، ہمارے ہاں اس سے یہی مراد ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 670
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «[ضعيف أخرجه الدار قطني [1/153]»
حدیث نمبر: 671
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ " فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ. وَإِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ مُضْطَرِبٌ وَاخْتَلَفُوا فِيهِ اخْتِلَافًا شَدِيدًا، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَهُوَ مَذْكُورٌ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قے کی تو روزے کو چھوڑ دیا۔ میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو دمشق کی مسجد میں ملا اور اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے آپ ﷺ کے لیے پانی انڈیلا تھا۔ یہ روایت مضطرب ہے، اس میں شدید اختلاف ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 671
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 2381»