السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من خروج الدم من غير مخرج الحدث باب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
حدیث نمبر: 667
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيَّ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " عَصَرَ بَثْرَةً فِي وَجْهِهِ فَخَرَجَ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ فَحَكَّهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " ورُوِّينَا فِي مَعْنَى هَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، ثُمَّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ، وَطَاوُسٍ، وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ لَيْسَ عَلَى الْمُحْتَجِمِ وُضُوءٌ.حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، آپ نے اپنے پھوڑے کو دبایا تو اس سے کچھ خون نکلا جو انہوں نے اپنی دو انگلیوں کے درمیان کھرچ دیا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
اسی معنی کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے، پھر سعید بن مسیب، سالم بن عبداللہ، حسن اور طاؤس رحمہم اللہ سے منقول ہے اور قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے: سینگی لگوانے پر وضو نہیں ہے۔