السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب وقوع الدباغ بالقرظ أو ما يقوم مقامه باب: ببول کے پتوں یا اس کے قائم مقام اشیاء سے دباغت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 64
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يُونُسَ، وَعَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ: " هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ". زَادَ عَقِيلٌ: " أَوَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالْقَرَظِ مَا يُطَهِّرُهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے نفع کیوں نہ حاصل کر لیا؟“ انہوں نے کہا: وہ تو مردار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صرف کھانا حرام ہے۔“ عقیل نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں کہ کیا پانی اور کیکر کی چھال نہیں ہے جو اس کو پاک کر دیتی۔