کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ببول کے پتوں یا اس کے قائم مقام اشیاء سے دباغت ہونے کا بیان
قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ ⦗٣٠⦘ بِبُخَارَى، أنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَهُوَ أَخْبَثُ مِنْهُ ". يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ هُوَ السَّمْتِيُّ غَيْرُهُ أَوْثَقُ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کتے کی قیمت خبیث ہے، اور وہ (کتا خود) اس سے بھی زیادہ خبیث ہے۔“ (محدثین فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں) یوسف بن خالد سمتی راوی ہے اور دیگر راوی اس کی بنسبت زیادہ ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَتْهَا أَنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا ". فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ " ⦗٣١⦘ هَكَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أُمِّ الْعَالِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کے کچھ لوگ اپنی ایک بکری کو، جو (جسامت میں) گدھے کی مانند تھی، گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کاش تم اس کی کھال کام میں لے لیتے!“ انہوں نے عرض کیا: یہ تو مردار ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور «الْقَرَظُ» (بابول کے پتے) پاک کر دیتے ہیں۔“ (راوی کا بیان ہے کہ) ابن وہب کی روایت کے الفاظ اسی طرح ہیں، سوائے اس کے کہ انہوں نے «عَنْ أُمِّ الْعَالِيَةِ» (ام العالیہ سے روایت) کے الفاظ کہے ہیں۔
وَقَدْ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ: لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا. فَقُلْتُ: أَوَيَحِلُّ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عالیہ بنت سبیع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ احد کی پہاڑیوں میں میرا بکریوں کا ریوڑ تھا، ان میں موت واقع ہو گئی تو میں ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور یہ قصہ ان سے ذکر کیا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: تو ان کے چمڑے اتار کر ان سے فائدہ حاصل کر لیتی۔ میں نے کہا: یہ جائز ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ کچھ آدمیوں کے پاس سے گزرے، پھر سارا واقعہ ذکر کیا۔
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يُونُسَ، وَعَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ: " هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ". زَادَ عَقِيلٌ: " أَوَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالْقَرَظِ مَا يُطَهِّرُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے نفع کیوں نہ حاصل کر لیا؟“ انہوں نے کہا: وہ تو مردار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صرف کھانا حرام ہے۔“ عقیل نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں کہ کیا پانی اور کیکر کی چھال نہیں ہے جو اس کو پاک کر دیتی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. وَقَالَ: زَادَ عَقِيلٌ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالْقَرَظِ مَا يُطَهِّرُهَا، أَوِ الدِّبَاغُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ربیع نے اسی سند کے ساتھ اس کے مثل روایت نقل کی ہے، عقیل نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا پانی اور کیکر کی چھال نہیں ہے جو اس کو پاک کر دیتی یا رنگ دیتی؟“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفْلِسِ - وَأَنَا سَأَلْتُهُ - ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ حَامِدٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا هِيَ دُبِغَتْ تُرَابًا، أَوْ رَمَادًا، أَوْ مِلْحًا، أَوْ مَا كَانَ بَعْدَ أَنْ يَزِيدَ صَلَاحُهُ، أَوْ يُزِيلَ الشَّكَّ عَنْهُ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا مُنْكَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَمَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ السَّمَرْقَنْدِيُّ يَكْنِي أَبَا مُعَاذٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردار کی کھال سے فائدہ اٹھاؤ، جب اس کو مٹی، راکھ یا نمک سے دباغت دی جائے یا ایسی چیز سے جو اس کو درست کر دے یا جب اس سے شک زائل ہو جائے۔“
(ب) ابو احمد کہتے ہیں کہ اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔
(ج) معروف بن حسان سمرقندی جس کی کنیت ابو معاذ ہے منکر الحدیث ہے۔
(ب) ابو احمد کہتے ہیں کہ اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔
(ج) معروف بن حسان سمرقندی جس کی کنیت ابو معاذ ہے منکر الحدیث ہے۔