حدیث نمبر: 63
وَقَدْ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ: لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا. فَقُلْتُ: أَوَيَحِلُّ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عالیہ بنت سبیع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ احد کی پہاڑیوں میں میرا بکریوں کا ریوڑ تھا، ان میں سے ایک بکری مرگئی تو میں ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور یہ قصہ ان سے ذکر کیا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: تو اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ حاصل کر لیتی۔ میں نے کہا: یہ جائز ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ کچھ آدمیوں کے پاس سے گزرے... پھر سارا واقعہ ذکر کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 63
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ في سنده عبد الله بن مالك المذكور انقاً»