السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يكره للنساء من الطيب عند الخروج وما يشتهرن به باب: عورتوں کے لیے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے اور ایسی چیزوں کے استعمال کی کراہت جن سے وہ (لوگوں میں) نمایاں ہوں
حدیث نمبر: 5974
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ ". قَالَ: " وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ، قَالَ: وَقَالَ: " أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ، أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ ". قَالَ سَعِيدٌ: إِنَّمَا حَمَلْنَا قَوْلَهُ فِي طِيبِ النِّسَاءِ عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ، وَأَمَّا عِنْدَ زَوْجِهَا فَإِنَّهَا تَطَيَّبُ بِمَا شَاءَتْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نہ ریشمی سرخ زین پر سوار ہوتا ہوں اور نہ زرد رنگ کے کپڑے پہنتا ہوں اور نہ ایسی قمیص جس کو ریشمی بٹن لگے ہوئے ہوں“ اور حصین نے قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی رنگت نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا صرف رنگ ہو۔“
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عورت باہر نکلے تو یہ خوشبو ہے، لیکن خاوند کے پاس جو خوشبو چاہے لگا لے۔