السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يكره للنساء من الطيب عند الخروج وما يشتهرن به باب: عورتوں کے لیے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے اور ایسی چیزوں کے استعمال کی کراہت جن سے وہ (لوگوں میں) نمایاں ہوں
حدیث نمبر: 5975
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَنَفِيُّ، أنبأ غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ الْكَعْبِيُّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ، وَكُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت خوشبو لگا کر کسی قوم کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ خوشبو حاصل کریں وہ زانیہ ہے، وہ زانیہ ہے بلکہ ہر آنکھ زانیہ ہے۔“