کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورتوں کے لیے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے اور ایسی چیزوں کے استعمال کی کراہت جن سے وہ (لوگوں میں) نمایاں ہوں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً مَرَّتْ بِهِ تَعْصِفُ رِيحُهَا، فَقَالَ: " يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ، الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، ⦗٣٤٩⦘ قَالَ: فَارْجِعِي فَاغْتَسِلِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ تَعْصِفُ رِيحُهَا فَيَقْبَلَ اللهُ مِنْهَا صَلَاتَهَا حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا فَتَغْتَسِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن یسار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت ان کے پاس سے گزری، اس سے خوشبو آرہی تھی۔ فرمانے لگے: اے جبار کی لونڈی! تو مسجد کا ارادہ رکھتی ہے؟ عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: اس لیے تو نے خوشبو لگائی ہے؟ کہنے لگی: ہاں۔ فرمایا: واپس جاؤ اور غسل کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”جو عورت مسجد کی طرف جاتی ہے اور اس سے خوشبو آرہی ہو تو جب تک وہ واپس جا کر غسل نہ کرے گی، اللہ اس کی نماز قبول نہ فرمائیں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ ". قَالَ: " وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ، قَالَ: وَقَالَ: " أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ، أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ ". قَالَ سَعِيدٌ: إِنَّمَا حَمَلْنَا قَوْلَهُ فِي طِيبِ النِّسَاءِ عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ، وَأَمَّا عِنْدَ زَوْجِهَا فَإِنَّهَا تَطَيَّبُ بِمَا شَاءَتْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نہ ریشمی سرخ زین پر سوار ہوتا ہوں اور نہ زرد رنگ کے کپڑے پہنتا ہوں اور نہ ایسی قمیص جس کو ریشم کی کناری لگی ہوئی ہو“ اور حسن نے قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی رنگت نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا صرف رنگ ہو۔“
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عورت باہر نکلے تو یہ خوشبو ہے، لیکن خاوند کے پاس جو خوشبو چاہے لگا لے۔
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عورت باہر نکلے تو یہ خوشبو ہے، لیکن خاوند کے پاس جو خوشبو چاہے لگا لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَنَفِيُّ، أنبأ غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ الْكَعْبِيُّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ، وَكُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت خوشبو لگا کر کسی قوم کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ خوشبو حاصل کریں وہ زانیہ ہے، بلکہ ہر آنکھ زانیہ ہے۔“