السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يكره للنساء من الطيب عند الخروج وما يشتهرن به باب: عورتوں کے لیے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے اور ایسی چیزوں کے استعمال کی کراہت جن سے وہ (لوگوں میں) نمایاں ہوں
حدیث نمبر: 5973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً مَرَّتْ بِهِ تَعْصِفُ رِيحُهَا، فَقَالَ: " يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ، الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، ⦗٣٤٩⦘ قَالَ: فَارْجِعِي فَاغْتَسِلِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ تَعْصِفُ رِيحُهَا فَيَقْبَلَ اللهُ مِنْهَا صَلَاتَهَا حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا فَتَغْتَسِلَ ".حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن یسار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت ان کے پاس سے گزری، اس سے خوشبو آرہی تھی۔ فرمانے لگے: اے جبار کی لونڈی! تو مسجد کا ارادہ رکھتی ہے؟ عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: اس لیے تو نے خوشبو لگائی ہے؟ کہنے لگی: ہاں۔ فرمایا: واپس جاؤ اور غسل کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”جو عورت مسجد کی طرف جاتی ہے اور اس سے خوشبو آرہی ہو تو جب تک وہ واپس جا کر غسل نہ کرے گی، اللہ اس کی نماز قبول نہ فرمائیں گے۔“