حدیث نمبر: 5972
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْروِ بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ:. هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاتِهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِعُصْفُرٍ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ؟ ". فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الْغَدَ، فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ، مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ؟ ". فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " أَفَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ؛ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ شنیہ وادی میں اترے۔ پھر انہوں نے اپنی نماز والی حدیث ذکر کی کہ آپ نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر زرد رنگ کی چادر تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیسی چادر اوڑھ رکھی ہے؟“ میں آپ ﷺ کی ناراضگی کو جان گیا۔ میں اپنے گھر آیا، وہ تنور جلا رہے تھے۔ میں نے وہ چادر تنور میں ڈال دی۔ پھر میں صبح آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! تو نے چادر کا کیا کیا؟“ میں نے آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو پہنا دیتے، اس میں کوئی حرج نہ تھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5972
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابو داؤد 8902»