السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في نوم الساجد باب: سجدے کی حالت میں سونے والے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 597
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، نا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي سُجُودِهِ حَتَّى غَطَّ وَنَفَخَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ نِمْتَ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا يَجِبُ الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ وَضَعَ جَنْبَهُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ: " إِنَّمَا الْوضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ".حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں سو گئے اور نیند نے آپ ﷺ کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سو گئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو پہلو کے بل سو جائے اس پر وضو ہے اور جس نے اپنے پہلو رکھ لیے (یعنی لیٹ گیا) تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“
(ب) بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے، بلاشبہ جو لیٹ گیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“