السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في نوم الساجد باب: سجدے کی حالت میں سونے والے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجِبُ الْوضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ جَالِسًا أَوْ قَائِمًا أَوْ سَاجِدًا حَتَّى يَضَعَ جَنْبَهُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ". تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، قَالَ أَبُو ⦗١٩٥⦘ عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا لَا شَيْءٌ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةَ، وَلَا أَعْرِفُ لِأَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ سَمَاعًا، مِنْ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاودَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَوْلُهُ: " الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا ". هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا يَزِيدُ الدَّالَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ. وَقَالَ أَبُو دَاودَ: قَالَ شُعْبَةُ: إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ، حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ مَتَى، وَحَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّلَاةِ، وَحَدِيثَ: الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ، وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ. حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ يَعْنِي فِي: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ الشَّيْخُ: وَسَمِعَ أَيْضًا حَدِيثَ ابْنَ عَبَّاسٍ فِيمَا يَقُولُ: عِنْدَ الْكَرْبِ، وَحَدِيثُهُ فِي رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُوسَى، وَغَيْرَهُ. قَالَ أَبُو دَاودَ: وَذَكَرْتُ حَدِيثَ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، فَقَالَ: مَا لِيَزِيدَ الدَّالَانِيِّ يَدْخُلُ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِهِ أَحْمَدُ مَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَنَّهُ لَا يُعْرَفُ لِأَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ سَمَاعٌ مِنْ قَتَادَةَ. قَالَ أَبُو دَاودَ: وَرَوَى أَوَّلَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمْ يذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ هَذَا. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا. وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَامُ عَيْنَايَ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ".(الف) عبدالسلام بن حرب اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بیٹھ کر یا کھڑا ہو کر یا سجدہ کی حالت میں سو جائے اس پر وضو نہیں ہے، جب تک اپنا پہلو نہ رکھ دے (یعنی لیٹ جائے)، جب اس نے اپنا پہلو رکھ دیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے۔“
اس حدیث کو اس طریقے سے صرف یزید بن عبدالرحمٰن ابو خالد دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری آنکھیں سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“
(ج) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا قول نقل کیا ہے اور اس میں ابو عالیہ کا ذکر نہیں کیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ ابو خالد دالانی نے قتادہ سے کچھ سنا ہو۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راوی کا یہ کہنا «الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا» ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے“ منکر ہے، اسے قتادہ سے صرف یزید دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ہ) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے کہا: قتادہ نے ابو عالیہ سے صرف چار احادیث سنی ہیں: حدیثِ یونس بن متی، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نماز کے متعلق حدیث، «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ» ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں“ والی حدیث اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ» ”عصر کے بعد کوئی نماز نہیں“ والی حدیث۔ شیخ فرماتے ہیں کہ (قتادہ نے) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت بھی سنی ہے کہ مصیبت کے وقت کیا پڑھا جائے اور سفرِ معراج میں نبی ﷺ کا موسیٰ علیہ السلام وغیرہ کو دیکھنے کی روایت بھی۔
(و) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید دالانی کی حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: یزید دالانی کو کیا ہے کہ وہ قتادہ کے شاگردوں میں داخل ہوتا ہے؟ شیخ فرماتے ہیں: امام احمد کی مراد وہی ہے جو امام بخاری نے ذکر کیا کہ ابو خالد دالانی کا قتادہ سے سماع معلوم نہیں۔