السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من النوم قاعدا باب: بیٹھ کر سونے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عَبْدَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، نا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءِ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ جَالِسًا أَخْفِقُ فَاحْتَضَنِّي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ وَجَبَ عَلَيَّ وَضُوءٌ؟ قَالَ: " لَا، حَتَّى تَضَعَ جَنْبَكَ ". وَهَذَا الْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءُ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں اس حال میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا سر (نیند کی وجہ سے) جھک جاتا تھا، پیچھے سے ایک شخص نے مجھے چوکا مارا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ نبی ﷺ تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ پر وضو ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تیرا پہلو نہ جھکے۔“