❮
❯
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عَبْدَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، نا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءِ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ جَالِسًا أَخْفِقُ فَاحْتَضَنِّي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ وَجَبَ عَلَيَّ وَضُوءٌ؟ قَالَ: " لَا، حَتَّى تَضَعَ جَنْبَكَ ". وَهَذَا الْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءُ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں اس حال میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا سر (نیند کی وجہ سے) جھک جاتا تھا، پیچھے سے ایک شخص نے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ نبی ﷺ تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ پر وضو ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تیرا پہلو نہ جھکے۔“
اس حدیث کو میمون خیاط سے صرف بحر بن کنیز سقاء نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اس کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 596
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابن عدي 2/54»