کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: سجدے کی حالت میں سونے والے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، نا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي سُجُودِهِ حَتَّى غَطَّ وَنَفَخَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ نِمْتَ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا يَجِبُ الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ وَضَعَ جَنْبَهُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ: " إِنَّمَا الْوضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں سو گئے اور نیند نے آپ ﷺ کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سو گئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو پہلو کے بل سو جائے اس پر وضو ہے اور جس نے اپنے پہلو رکھ لیے (یعنی لیٹ گیا) تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“
(ب) بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے، بلاشبہ جو لیٹ گیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 597
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الكبير 12748»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجِبُ الْوضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ جَالِسًا أَوْ قَائِمًا أَوْ سَاجِدًا حَتَّى يَضَعَ جَنْبَهُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ". تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، قَالَ أَبُو ⦗١٩٥⦘ عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا لَا شَيْءٌ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةَ، وَلَا أَعْرِفُ لِأَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ سَمَاعًا، مِنْ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاودَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَوْلُهُ: " الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا ". هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا يَزِيدُ الدَّالَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ. وَقَالَ أَبُو دَاودَ: قَالَ شُعْبَةُ: إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ، حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ مَتَى، وَحَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّلَاةِ، وَحَدِيثَ: الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ، وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ. حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ يَعْنِي فِي: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ الشَّيْخُ: وَسَمِعَ أَيْضًا حَدِيثَ ابْنَ عَبَّاسٍ فِيمَا يَقُولُ: عِنْدَ الْكَرْبِ، وَحَدِيثُهُ فِي رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُوسَى، وَغَيْرَهُ. قَالَ أَبُو دَاودَ: وَذَكَرْتُ حَدِيثَ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، فَقَالَ: مَا لِيَزِيدَ الدَّالَانِيِّ يَدْخُلُ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِهِ أَحْمَدُ مَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَنَّهُ لَا يُعْرَفُ لِأَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ سَمَاعٌ مِنْ قَتَادَةَ. قَالَ أَبُو دَاودَ: وَرَوَى أَوَّلَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمْ يذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ هَذَا. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا. وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَامُ عَيْنَايَ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبدالسلام بن حرب اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بیٹھ کر یا کھڑا ہو کر یا سجدہ کی حالت میں سو جائے اس پر وضو نہیں ہے، جب تک اپنا پہلو نہ رکھ دے (یعنی لیٹ جائے)، جب اس نے اپنا پہلو رکھ دیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے۔“
اس حدیث کو اس طریقے سے صرف یزید بن عبدالرحمٰن ابو خالد دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری آنکھیں سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“
(ج) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا قول نقل کیا ہے اور اس میں ابو عالیہ کا ذکر نہیں کیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ ابو خالد دالانی نے قتادہ سے کچھ سنا ہو۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راوی کا یہ کہنا «الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا» ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے“ منکر ہے، اسے قتادہ سے صرف یزید دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ہ) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے کہا: قتادہ نے ابو عالیہ سے صرف چار احادیث سنی ہیں: حدیثِ یونس بن متی، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نماز کے متعلق حدیث، «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ» ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں“ والی حدیث اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ» ”عصر کے بعد کوئی نماز نہیں“ والی حدیث۔ شیخ فرماتے ہیں کہ (قتادہ نے) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت بھی سنی ہے کہ مصیبت کے وقت کیا پڑھا جائے اور سفرِ معراج میں نبی ﷺ کا موسیٰ علیہ السلام وغیرہ کو دیکھنے کی روایت بھی۔
(و) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید دالانی کی حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: یزید دالانی کو کیا ہے کہ وہ قتادہ کے شاگردوں میں داخل ہوتا ہے؟ شیخ فرماتے ہیں: امام احمد کی مراد وہی ہے جو امام بخاری نے ذکر کیا کہ ابو خالد دالانی کا قتادہ سے سماع معلوم نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 598
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحُمَيْدٍ، وَحَمَّادٍ الْكُوفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يتَوَضَّأْ ". قَالَ عِكْرِمَةُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَحْفُوظًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عکرمہ کہتے ہیں: نبی ﷺ محفوظ تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 599
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 138»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يتَوَضَّأْ ". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ دُونَ الزِّيَادَةِ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعِدَّةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حَدِيثِ الْمَبِيتِ دُونَ تِلْكَ الزِّيَادَةِ، وَنَوْمُهُ هَذَا كَانَ مُضْطَجِعًا، وَكَانَ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَتْرُكُ الْوضُوءَ مِنْهُ مَخْصُوصًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے خراٹے لیے، پھر کھڑے ہوئے نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رات گزارنے والی حدیث ہے جس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
(ج) آپ ﷺ کی نیند لیٹ کر تھی، آپ ﷺ نے وضو نہیں کیا، یہ آپ کا خاصہ ہے جس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ہے۔
اس زیادتی کو بیان کرنے میں ابو خالد دالانی منفرد ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 600
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو كُرَيْبًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوَ مَا تَوَضَّأَ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمُنَادِي، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ ". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِنَا وَلَمْ يتَوَضَّأْ، وَقَالَ سُفْيَانُ: قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟ قَالَ عُمَرُ: وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، وَقَرَأَ: {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} [الصافات: ١٠٢]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، وَابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا۔ رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد نبی ﷺ کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا (عمرو اس کو ہلکا اور بہت تھوڑا بیان کرتے ہیں) پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی کھڑا ہوا۔ میں نے ویسے ہی وضو کیا جیسے آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا، پھر آپ نے نماز پڑھی جتنی اللہ نے چاہی، پھر آپ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر اعلان کرنے والا آیا، اس نے آپ ﷺ کو نماز کے متعلق بتایا۔
اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ”نبی ﷺ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی: ﴿إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ [سورة الصافات: 102]
(ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں: یہ نبی ﷺ کا خاصہ ہے چونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ ”آپ ﷺ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 601
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 117»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ⦗١٩٧⦘ عَائِشَةَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنِيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ. وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ. قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ تَنَامُ أَعْينُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رات کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 602
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 9/19»
أَخْبَرَنَاهُ إِجَازَةً أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَى الْمُحْتَبِي النَّائِمِ وَلَا عَلَى الْقَائِمِ النَّائِمِ وَلَا عَلَى السَّاجِدِ النَّائِمِ وُضُوءٌ، حَتَّى يَضْطَجِعَ، فَإِذَا اضْطَجَعَ تَوَضَّأَ " وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گوٹھ مار کر سونے والے پر، کھڑے ہو کر سونے والے پر اور سجدے میں سونے والے پر وضو نہیں ہے جب تک لیٹ نہ جائے، جب لیٹ گیا تو وضو کرے گا (یہ موقوف روایت ہے)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 603
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»