السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: كراهية الجلوس في وسط الحلقة لما فيه والله أعلم من تخطي رقاب الناس مع سوء الأدب وترك الحشمة. باب: حلقے کے درمیان بیٹھنے کی کراہت کا بیان، کیونکہ واللہ اعلم اس میں سوءِ ادب اور وقار کو ترک کرنے کے ساتھ لوگوں کی گردنیں پھلانگنا پایا جاتا ہے
حدیث نمبر: 5909
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ وَهُوَ أَبُو مِجْلَزٍ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ وَسَطَ الْحَلْقَةِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: " مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الَّذِي يَجْلِسُ وَسَطَ الْحَلْقَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مجلس کے درمیان میں بیٹھ گیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ لعنت کیا گیا ہے محمد ﷺ کی زبان سے“ یا فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس پر لعنت کی ہے جو مجلس کے درمیان میں بیٹھتا ہے“۔