السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: كراهية الجلوس في وسط الحلقة لما فيه والله أعلم من تخطي رقاب الناس مع سوء الأدب وترك الحشمة. باب: حلقے کے درمیان بیٹھنے کی کراہت کا بیان، کیونکہ واللہ اعلم اس میں سوءِ ادب اور وقار کو ترک کرنے کے ساتھ لوگوں کی گردنیں پھلانگنا پایا جاتا ہے
حدیث نمبر: 5908
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى حُذَيْفَةَ فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ فُلَانًا مَاتَ، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي أَمَاتَهُ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمِيتَكَ "، فَجَلَسَ وَسَطَ الْحَلْقَةِ، فَقَالَ لَهُ: " قُمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الَّذِي يَجْلِسُ وَسَطَ الْحَلْقَةِ ". قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَفَ مِنْهُ نِفَاقًا، وَأَنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ قَصْدًا إِلَى تَرْكِ الْحِشْمَةِ وَقِلَّةِ الْمُبَالِاةِ بِأَهْلِ الْحَلْقَةِ.حافظ ثناء اللہ
ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ فلاں فوت ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جس اللہ نے اسے موت دی ہے وہ اس پر قادر ہے کہ تجھے بھی موت دے دے۔ وہ مجلس کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اٹھ جاؤ کیونکہ ”رسول اللہ ﷺ نے اس پر لعنت کی ہے جو حلقہ کے درمیان بیٹھتا ہے“۔