حدیث نمبر: 5910
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ ⦗٣٣٣⦘ أَوْسٍ قَالَ: " شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَجَمَّعَ بِنَا، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِيِينَ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَشُرَيْحٌ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ. قَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا، وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ ".
حافظ ثناء اللہ

یعلیٰ بن شداد بن اوس بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا۔ انہوں نے ہمیں جمعہ پڑھایا۔ میں نے دیکھا کہ مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ میں نے ان کو دیکھا، وہ گوٹھ مارے بیٹھے تھے اور امام خطبہ ارشاد فرما رہا تھا۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خطبہ کے دوران گوٹھ مار کر بیٹھ جاتے تھے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح رحمہ اللہ وغیرہ اس میں کوئی قباحت خیال نہیں کرتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5910
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابو داؤد 1111»