السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: حجة من زعم أن الإنصات للإمام اختيار وأن الكلام فيما يعنيه أو يعني غيره والإمام يخطب مباح باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ گمان کیا کہ امام کے لیے خاموش رہنا اختیاری ہے اور امام کے خطبہ دینے کے دوران اپنے یا کسی دوسرے کے مطلب کی بات کرنا مباح ہے
حدیث نمبر: 5845
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ لِرَجُلٍ: " هَلِ اشْتَرَيْتَ لِأَهْلِنَا هَذَا أَوْ أَشَارَ بِطَرَفِ أُصْبُعِهِ يَعْنِي الْخُطْبَةَ ".حافظ ثناء اللہ
عمران بن موسیٰ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو مخاطب کیا اور پوچھا: کیا تو نے ہمارے گھر والوں کے لیے یہ خریداری کی ہے؟ یا اپنی انگلی کے کنارے سے اشارہ کیا، یعنی (یہ) خطبہ (کے دوران تھا)۔