السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: حجة من زعم أن الإنصات للإمام اختيار وأن الكلام فيما يعنيه أو يعني غيره والإمام يخطب مباح باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ گمان کیا کہ امام کے لیے خاموش رہنا اختیاری ہے اور امام کے خطبہ دینے کے دوران اپنے یا کسی دوسرے کے مطلب کی بات کرنا مباح ہے
حدیث نمبر: 5844
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا كَانَ إِلَّا الْوُضُوءُ " قَالَ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ ".حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہو کر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، انہوں نے کہا: یہ کون سی گھڑی ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وضو کا وقت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وضو بھی ٹھیک ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ”غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔“