السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: حجة من زعم أن الإنصات للإمام اختيار وأن الكلام فيما يعنيه أو يعني غيره والإمام يخطب مباح باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ گمان کیا کہ امام کے لیے خاموش رہنا اختیاری ہے اور امام کے خطبہ دینے کے دوران اپنے یا کسی دوسرے کے مطلب کی بات کرنا مباح ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو ⦗٣١٥⦘ الْمُوَجِّهِ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي فَلَبَسْتُ حُلَّتِي فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: يَا عَبْدَ اللهِ هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ فَقَالَ: " إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ لَمَسْحَةُ مَلَكٍ". فَحَمِدْتُ اللهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي".سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا، اپنا تھیلا کھولا اور حلہ پہن لیا، پھر میں نبی ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی ﷺ نے مجھے سلام کہا تو لوگ مجھے گھور رہے تھے، میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے میرے بارے میں کچھ ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: اچھا تذکرہ کیا، جب دورانِ خطبہ کوئی بات پیش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”عنقریب اس دروازے یا اسی راستہ سے یمن کا بہترین آدمی آئے گا اور اس کے چہرے پر فرشتے کا چوکا ہوگا۔“ میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، جس پر اس نے میری آزمائش کی۔