السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الإنصات للخطبة وإن لم يسمعها باب: خطبے کے لیے خاموش رہنے کا بیان اگرچہ خطبہ سنائی نہ دے رہا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبَى إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّمَا يَدَعُ ذَلِكَ إِذَا خَطَبَ: " إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ فِي الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلسَّامِعِ الْمُنْصِتِ، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَا يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ، فَيُكَبِّرُ ".مالک بن ابی عامر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے، اور جب خطبہ دیتے تو بہت کم اس کو چھوڑتے: جب امام جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہو تو تم غور سے سنو اور خاموش رہو کیونکہ جو خاموش رہے لیکن (خطبہ) سن نہ سکے اس کے لیے (اجر میں) اتنا ہی حصہ ہے جتنا سننے والے خاموش شخص کے لیے ہے۔ جب اقامت ہو جائے تو صفیں درست کر لو اور کندھوں کو برابر کر لو کیونکہ ”صفوں کا درست کرنا نماز کو پورا کرنا ہے۔“ پھر اتنی دیر تکبیر نہ کہتے، جتنی دیر صفوں کو درست کرنے والا اس کی اطلاع نہ دے دے کہ صفیں درست ہو چکیں، جب وہ خبر دیتے کہ صفیں درست ہو گئیں تب آپ نماز شروع کرتے۔