السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الإنصات للخطبة وإن لم يسمعها باب: خطبے کے لیے خاموش رہنے کا بیان اگرچہ خطبہ سنائی نہ دے رہا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَسَانِيُّ، عَنْ مَوْلًى لِامْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْأَسْوَاقِ يَأْخُذُونَ النَّاسَ الرَّبَائِثَ، وَيُذَكِّرُونَهُمُ الْحَوَائِجَ، وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ، وَتَغْدُو الْمَلَائِكَةُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ عَلَى رَجُلٍ السَّاعَةَ الَّتِي جَاءَ فِيهَا، فُلَانٌ جَاءَ مِنْ سَاعَةٍ، فُلَانٌ مِنْ سَاعَتَيْنِ، فَإِذَا الرَّجُلُ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَإِذَا جَلَسَ فِيهِ مَجْلِسًا فَنَأَى وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ. أَوْ قَالَ: كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ، وَمَنْ قَالَ لِأَخِيهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: صَهْ، فَقَدْ لَغَا، وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ مِنْ جَمَعْتِهِ شَيْءٌ. ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.ام عثمان رضی اللہ عنہا کے غلام کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر تھے: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر بازاروں کی طرف نکل جاتے ہیں، وہ لوگوں کو رکاوٹوں کے ذریعے سے روکتے ہیں اور ان کو کام یاد کرواتے ہیں، ان کو جمعہ سے روکتے ہیں اور صبح سویرے فرشتے اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں، مسجد کے دروازوں کی طرف، وہ لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی آیا اور فلاں فلاں گھڑی آیا۔ جب آدمی اپنی جگہ بیٹھ جاتا ہے اور خطبہ غور سے سنتا ہے، کوئی فضول بات نہیں کرتا تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جب اپنی جگہ بیٹھتا ہے اور دور ہوتا ہے، خاموش رہتا ہے اور کوئی لغو بات نہیں کرتا تو اس کا ایک اجر ہے اور جب آدمی اپنی جگہ پر رہتا ہے اور خطبہ ممکن حد تک غور سے سنتا ہے لیکن لغو کام کر لیتا ہے اور خاموش نہیں رہتا، اس کے اوپر دوہرا عذاب ہے یا فرمایا: اس پر بوجھ ہے اور جس نے اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن کہا: رک جا، اس نے بھی لغو بات کی اور جو فضول بات کرتا ہے اس کا جمعہ نہیں۔“ اس کے آخر میں ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے۔