کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: خطبے کے لیے خاموش رہنے کا بیان اگرچہ خطبہ سنائی نہ دے رہا ہو
حدیث نمبر: 5834
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَسَانِيُّ، عَنْ مَوْلًى لِامْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْأَسْوَاقِ يَأْخُذُونَ النَّاسَ الرَّبَائِثَ، وَيُذَكِّرُونَهُمُ الْحَوَائِجَ، وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ، وَتَغْدُو الْمَلَائِكَةُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ عَلَى رَجُلٍ السَّاعَةَ الَّتِي جَاءَ فِيهَا، فُلَانٌ جَاءَ مِنْ سَاعَةٍ، فُلَانٌ مِنْ سَاعَتَيْنِ، فَإِذَا الرَّجُلُ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَإِذَا جَلَسَ فِيهِ مَجْلِسًا فَنَأَى وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ. أَوْ قَالَ: كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ، وَمَنْ قَالَ لِأَخِيهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: صَهْ، فَقَدْ لَغَا، وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ مِنْ جَمَعْتِهِ شَيْءٌ. ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
ام عثمان رضی اللہ عنہا کے غلام کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر تھے: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر بازاروں کی طرف نکل جاتے ہیں، وہ لوگوں کو رکاوٹوں کے ذریعے سے روکتے ہیں اور ان کو کام یاد کرواتے ہیں، ان کو جمعہ سے روکتے ہیں اور صبح سویرے فرشتے اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں، مسجد کے دروازوں کی طرف، وہ لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی آیا اور فلاں فلاں گھڑی آیا۔ جب آدمی اپنی جگہ بیٹھ جاتا ہے اور خطبہ غور سے سنتا ہے، کوئی فضول بات نہیں کرتا تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جب اپنی جگہ بیٹھتا ہے اور دور ہوتا ہے، خاموش رہتا ہے اور کوئی لغو بات نہیں کرتا تو اس کا ایک اجر ہے اور جب آدمی اپنی جگہ پر رہتا ہے اور خطبہ ممکن حد تک غور سے سنتا ہے لیکن لغو کام کر لیتا ہے اور خاموش نہیں رہتا، اس کے اوپر دوہرا عذاب ہے یا فرمایا: اس پر بوجھ ہے اور جس نے اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن کہا: رک جا، اس نے بھی لغو بات کی اور جو فضول بات کرتا ہے اس کا جمعہ نہیں۔“ اس کے آخر میں ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5834
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ احمد 1/93»
حدیث نمبر: 5835
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبَى إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّمَا يَدَعُ ذَلِكَ إِذَا خَطَبَ: " إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ فِي الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلسَّامِعِ الْمُنْصِتِ، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَا يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ، فَيُكَبِّرُ ".
حافظ ثناء اللہ
مالک بن ابی عامر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خطبہ میں کہہ رہے تھے: بہت کم اس کو چھوڑتے ہیں جب امام خطبہ دے یا خطبہ کے لیے کھڑا ہو، جمعہ کے دن تو تم خاموش رہو اور غور سے سنو کیونکہ جو خاموش ہو کر سنے اس کے لیے اجر ہے اور جو اس طرح نہ کرے تو وہ اجر سے بھی محروم ہوگا۔ جب اقامت ہو جائے تو صفیں درست کر لو اور کندھے باہر کر لو کیونکہ ”صفوں کا درست کرنا نماز کو پورا کرنا ہے۔“ پھر اتنی دیر تکبیر نہ کہتے، جتنی دیر صفوں کو درست کرنے والا اس کی اطلاع نہ دے دے کہ صفیں درست ہو چکیں، جب وہ خبر دیتے کہ صفیں درست ہو گئیں تب آپ نماز شروع کرتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5835
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 229»
حدیث نمبر: 5836
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَذْكُرَ اللهَ فِي نَفْسِهِ تَكْبِيرًا وَتَهْلِيلًا وَتَسْبِيحًا. قَالَ: وَأَنْبَأَ قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَأَلَ إِبْرَاهِيمَ: أَتَقْرَأُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: " عَسَى أَنْ لَا يَضُرَّكَ ".
حافظ ثناء اللہ
منصور بن معتمر رحمہ اللہ نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا: کیا ہم جمعہ کے دن نماز پڑھیں اور امام کے خطبہ کے دوران قراءت کر لیں جب کہ خطبہ سنائی نہ دے رہا ہو؟ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ وہ تجھے نقصان نہ دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5836
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»