حدیث نمبر: 5698
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ السَّمْحِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ أَوْ نَخْلَةٍ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَجْعَلُ لَكَ مِنْبَرًا؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتُمْ فَاجْعَلُوهُ " فَجَعَلُوا لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ صِيَاحَ الصَّبِيِّ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، كَانَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يَسْكُتُ، قَالَ: كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن ایک درخت کے پاس کھڑے ہوئے۔ انصار کی ایک عورت یا مرد نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم منبر نہ بنا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہتے ہو تو بنا دو۔“ انہوں نے منبر بنا دیا۔ جب جمعہ کا دن ہوا اور آپ ﷺ منبر کی طرف گئے تو وہ کھجور کا تنا بچے کی طرح رونے لگا۔ نبی ﷺ منبر سے اترے اور اس کو اپنے ساتھ ملایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ فرماتے ہیں کہ وہ اس بنا پر رو رہا تھا جو وہ ذکر سنا کرتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5698
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3391»