السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: مقام الإمام في الخطبة باب: خطبے میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْجَهْمِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقُرَشِيُّ ثنا شُعَيْبُ بْنُ عَمْرٍو الضُّبَعِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ: أَلَا نَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا تَحْمِلُ، أَوْ تَجْمَعُ، أَوْ كَلِمَةٌ تُشْبِهُهَا، عِظَامَكَ، فَاتُّخِذَ لَهُ مِرْقَاتَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَنَّ جِذْعٌ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ، فَقَالَ لَهُ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَكَانَتْ أَسَاطِينُ الْمَسْجِدِ جُذُوْعًا وَسَقَائِفُهُ جَرِيدًا ". ⦗٢٧٨⦘ قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَوَى أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ فَذَكَرَهُ.سیدنا نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا، جب آپ ﷺ بوجھل ہو گئے: ”کیا میں آپ ﷺ کے لیے منبر نہ بنا دوں تاکہ آپ ﷺ اس پر بیٹھیں؟“ پھر «تَجْمَعُ» یا اس کے علاوہ دوسرا کلمہ ارشاد فرمایا۔ انہوں نے آپ ﷺ کے لیے دو یا تین سیڑھیاں بنا دیں۔ پھر آپ ﷺ اس پر بیٹھے تو وہ تنا رویا جو مسجد میں تھا، جس پر نبی ﷺ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ پھر نبی ﷺ منبر سے اترے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا اور اس سے کچھ بات کی، میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے کیا کہا۔ پھر آپ ﷺ منبر پر چلے گئے، ان دنوں مسجد کے ستون تنوں کے تھے اور چھت چھڑیوں کی۔