حدیث نمبر: 5697
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَفَرًا جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أِيِّ عُودٍ هُوَ؟ فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أِيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ عَمَلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَحَدِّثْنَا، فَقَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: إِنَّهُ سَمَّاهَا يَوْمَئِذٍ: " انْظُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا لِأُكَلِّمَ النَّاسَ عَلَيْهَا " فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ فَهِيَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَعْنِي ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

عبد العزیز بن ابی حازم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک گروہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی طرف آیا، وہ منبر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ وہ کس لکڑی کا تھا؟ وہ فرمانے لگے: میں جانتا ہوں وہ کس لکڑی کا ہے اور کس نے بنایا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے دن سے دیکھا وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عباس! ہمیں بیان کیجیے۔ فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو پیغام دیا (ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے اس کا نام بھی لیا) کہ ”وہ اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے کہ وہ میرے لیے لکڑی کا منبر تیار کر دے تاکہ میں اس پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ کروں۔“ اس نے اس کی تین سیڑھیاں بنائیں۔ پھر نبی ﷺ نے حکم دیا اور اسے اس جگہ رکھ دیا گیا۔ یہ جھاؤ کی لکڑی تھی اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس پر کھڑے ہو کر تکبیر یعنی «اَللهُ اَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا تو لوگوں نے بھی «اَللهُ اَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں منبر سے نیچے اترے اور سجدہ منبر کی جڑ میں کیا، پھر لوٹ گئے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوئے۔ پھر لوگوں پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز کو سیکھ لو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5697
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 5229»