حدیث نمبر: 5696
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ الْبُخَارِيُّ أنبأ أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " كَانَ الْمَسْجِدُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْقُوفًا عَلَى جُذُوعٍ مِنْ نَخْلٍ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَقُومُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ كَانَ عَلَيْهِ فَسَمِعْنَا لِذَلِكَ الْجِذْعِ صَوْتًا كَصَوْتِ الْعِشَارِ، حَتَّى جَاءَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ ". ⦗٢٧٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ أَخِيهِ أَبِي بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ مسجد کی چھت نبی ﷺ کے دور میں کھجور کے تنوں سے بنی ہوئی تھی۔ نبی ﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو تنے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔ جب منبر بنا لیا گیا تو آپ ﷺ اس منبر پر بیٹھنے لگے۔ اس تنے سے بچے کے رونے کی طرح آواز آتی تھی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو وہ خاموش ہو گیا۔
حدیث نمبر: 5697
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَفَرًا جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أِيِّ عُودٍ هُوَ؟ فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أِيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ عَمَلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَحَدِّثْنَا، فَقَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: إِنَّهُ سَمَّاهَا يَوْمَئِذٍ: " انْظُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا لِأُكَلِّمَ النَّاسَ عَلَيْهَا " فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ فَهِيَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَعْنِي ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عبد العزیز بن ابی حازم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک گروہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی طرف آیا، وہ منبر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ وہ کس لکڑی کا تھا؟ وہ فرمانے لگے: میں جانتا ہوں وہ کس لکڑی کا ہے اور کس نے بنایا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے دن سے دیکھا وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عباس! ہمیں بیان کیجیے۔ فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو پیغام دیا (ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے اس کا نام بھی لیا) کہ ”وہ اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے کہ وہ میرے لیے لکڑی کا منبر تیار کر دے تاکہ میں اس پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ کروں۔“ اس نے اس کی تین سیڑھیاں بنائیں۔ پھر نبی ﷺ نے حکم دیا اور اسے اس جگہ رکھ دیا گیا۔ یہ جھاؤ کی لکڑی تھی اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس پر کھڑے ہو کر تکبیر یعنی «اَللهُ اَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا تو لوگوں نے بھی «اَللهُ اَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں منبر سے نیچے اترے اور سجدہ منبر کی جڑ میں کیا، پھر لوٹ گئے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوئے۔ پھر لوگوں پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز کو سیکھ لو۔“
حدیث نمبر: 5698
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ السَّمْحِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ أَوْ نَخْلَةٍ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَجْعَلُ لَكَ مِنْبَرًا؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتُمْ فَاجْعَلُوهُ " فَجَعَلُوا لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ صِيَاحَ الصَّبِيِّ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، كَانَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يَسْكُتُ، قَالَ: كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن ایک درخت کے پاس کھڑے ہوئے۔ انصار کی ایک عورت یا مرد نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم منبر نہ بنا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہتے ہو تو بنا دو۔“ انہوں نے منبر بنا دیا۔ جب جمعہ کا دن ہوا اور آپ ﷺ منبر کی طرف گئے تو وہ کھجور کا تنا بچے کی طرح رونے لگا۔ نبی ﷺ منبر سے اترے اور اس کو اپنے ساتھ ملایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ فرماتے ہیں کہ وہ اس بنا پر رو رہا تھا جو وہ ذکر سنا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 5699
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْجَهْمِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقُرَشِيُّ ثنا شُعَيْبُ بْنُ عَمْرٍو الضُّبَعِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ: أَلَا نَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا تَحْمِلُ، أَوْ تَجْمَعُ، أَوْ كَلِمَةٌ تُشْبِهُهَا، عِظَامَكَ، فَاتُّخِذَ لَهُ مِرْقَاتَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَنَّ جِذْعٌ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ، فَقَالَ لَهُ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَكَانَتْ أَسَاطِينُ الْمَسْجِدِ جُذُوْعًا وَسَقَائِفُهُ جَرِيدًا ". ⦗٢٧٨⦘ قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَوَى أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا، جب آپ ﷺ بوجھل ہو گئے: ”کیا میں آپ ﷺ کے لیے منبر نہ بنا دوں تاکہ آپ ﷺ اس پر بیٹھیں؟“ پھر «تَجْمَعُ» یا اس کے علاوہ دوسرا کلمہ ارشاد فرمایا۔ انہوں نے آپ ﷺ کے لیے دو یا تین سیڑھیاں بنا دیں۔ پھر آپ ﷺ اس پر بیٹھے تو وہ تنا رویا جو مسجد میں تھا، جس پر نبی ﷺ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ پھر نبی ﷺ منبر سے اترے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا اور اس سے کچھ بات کی، میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے کیا کہا۔ پھر آپ ﷺ منبر پر چلے گئے، ان دنوں مسجد کے ستون تنوں کے تھے اور چھت چھڑیوں کی۔
حدیث نمبر: 5700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ حَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَالْتَزَمَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الْحَمِيدِ: أَنْبَأَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ نے منبر بنوا لیا تو وہ تنا رویا، پھر آپ ﷺ نے اس کو اپنے ساتھ لگایا۔