السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الصلاة يوم الجمعة نصف النهار وقبله وبعده حتى يخرج الإمام. باب: جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت اور اس سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ امام (خطبے کے لیے) نکل آئے
حدیث نمبر: 5687
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُرُوجُ الْإِمَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِلصَّلَاةِ، يَعْنِي يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، وَكَلَامُهُ يَقْطَعُ الْكَلَامَ ". وَهَذَا خَطَأٌ فَاحِشٌ، فَإِنَّمَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَمَيَّزَ كَلَامَ الزُّهْرِيِّ مِنْ كَلَامِ ثَعْلَبَةَ كَمَا ذَكَرْنَا، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ.حافظ ثناء اللہ
ضمضم بن جوس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن امام کا آنا نماز کو اور اس کا خطبہ دینا کلام کو ختم کر دیتا ہے۔“
یہ سخت غلطی ہے، کیونکہ عبدالرزاق نے اسے معمر سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے ان کے اپنے قول کے طور پر غیر مرفوع روایت کیا ہے۔ ابن ابی ذئب اور یونس نے اسے زہری سے، انہوں نے ثعلبہ بن ابی مالک سے روایت کیا ہے، اور امام مالک نے اسے زہری سے روایت کیا تو زہری کے کلام کو ثعلبہ کے کلام سے الگ کر دیا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اور محمد بن یحییٰ ذہلی کے نزدیک یہی محفوظ ہے۔