کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت اور اس سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ امام (خطبے کے لیے) نکل آئے
حدیث نمبر: 5683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَاكَ وَلَبِسَ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ وَتَطَيَّبَ بِطِيبٍ إِنْ وَجَدَهُ، ثُمَّ جَاءَ وَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ سَكَتَ، فَذَلِكَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ، ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل اور مسواک کرے اور اچھے کپڑے پہنے، خوشبو لگائے، اگر موجود ہو۔ پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے۔ پھر جتنی اللہ چاہے نماز پڑھے اور جب امام نکلے تو خاموش ہو جائے۔ یہ دوسرے جمعہ تک کا کفارہ ہے۔“
حدیث نمبر: 5684
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: " أَنَّهُمْ كَانُوا فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَإِذَا خَرَجَ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ حَتَّى إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ وَقَامَ عُمَرُ سَكَتُوا فَلَمْ يَتَحَدَّثْ أَحَدٌ "..
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب، ثعلبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ جمعہ کے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نکلنے کے وقت نماز پڑھتے رہتے؛ جب وہ تشریف لاتے اور منبر پر بیٹھ جاتے اور مؤذن اذان کہہ دیتے تو سب بیٹھ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن خاموش ہو جاتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوتے تو سب خاموش ہو جاتے اور کوئی ایک بھی بات نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 5685
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، وَزَادَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: " خُرُوجُ الْإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، وَكَلَامُهُ يَقْطَعُ الْكَلَامَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ بھی اسی طرح حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب مؤذن خاموش ہوتا۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ جب امام نکلتا تو وہ نماز ختم کر دیتے اور امام کے کلام کے وقت خاموش ہو جاتے۔
حدیث نمبر: 5686
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ: " أَنَّ قُعُودَ الْإِمَامِ يَقْطَعُ السُّبْحَةَ، وَأَنَّ كَلَامَهُ يَقْطَعُ الْكَلَامَ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا يَتَحَدَّثُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ جَالِسٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ عُمَرُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ حَتَّى يَقْضِيَ الْخُطْبَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ وَنَزَلَ عُمَرُ تَكَلَّمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ، ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد نفل ختم کر دیں اور اس کے خطبے کے وقت بات چیت ختم کر دیں، اور لوگ آپس میں بات چیت کرتے؛ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر ہوتے اور مؤذن خاموش ہو جاتا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوتے تو پھر کوئی کلام نہ کرتا، یہاں تک کہ وہ دونوں خطبے ختم کر لیتے، جب نماز ہو جاتی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اترتے اور لوگ باتیں کرتے۔
حدیث نمبر: 5687
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُرُوجُ الْإِمَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِلصَّلَاةِ، يَعْنِي يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، وَكَلَامُهُ يَقْطَعُ الْكَلَامَ ". وَهَذَا خَطَأٌ فَاحِشٌ، فَإِنَّمَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَمَيَّزَ كَلَامَ الزُّهْرِيِّ مِنْ كَلَامِ ثَعْلَبَةَ كَمَا ذَكَرْنَا، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ضمضم بن جوس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن امام کا آنا نماز کو اور اس کا خطبہ دینا کلام کو ختم کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5688
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ نِصْفَ النَّهَارِ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِأَنَّ جَهَنَّمَ تُسَعَّرُ كُلَّ يَوْمٍ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو خلیل، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”دوپہر کو نماز سے منع کیا، لیکن جمعہ کے دن؛ کیونکہ جہنم کو روزانہ بھڑکایا جاتا ہے سوائے جمعہ کے دن کے۔“