السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الصلاة يوم الجمعة نصف النهار وقبله وبعده حتى يخرج الإمام. باب: جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت اور اس سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ امام (خطبے کے لیے) نکل آئے
حدیث نمبر: 5686
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ: " أَنَّ قُعُودَ الْإِمَامِ يَقْطَعُ السُّبْحَةَ، وَأَنَّ كَلَامَهُ يَقْطَعُ الْكَلَامَ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا يَتَحَدَّثُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ جَالِسٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ عُمَرُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ حَتَّى يَقْضِيَ الْخُطْبَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ وَنَزَلَ عُمَرُ تَكَلَّمُوا ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ، ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد نفل ختم کر دیں اور اس کے خطبے کے وقت بات چیت ختم کر دیں، اور لوگ آپس میں بات چیت کرتے؛ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر ہوتے اور مؤذن خاموش ہو جاتا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوتے تو پھر کوئی کلام نہ کرتا، یہاں تک کہ وہ دونوں خطبے ختم کر لیتے، جب نماز ہو جاتی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اترتے اور لوگ باتیں کرتے۔