السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن عدد الأربعين له تأثير فيما يقصد به الجماعة باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کے مقاصد میں چالیس کی تعداد کا عمل دخل ہے
حدیث نمبر: 5620
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ، فَقَالَ: " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مَسْلَمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس آدمی تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم راضی ہو کہ تم جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم راضی ہو کہ تم جنت کا تیسرا حصہ ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھی جنت والوں میں سے ہو گے، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا، اور تم اہل شرک کے مقابلے میں ایسے ہو جیسے سیاہ بیل کے اوپر کوئی سفید بال ہو یا سرخ بیل کے اوپر کوئی سیاہ بال ہو۔“