السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن عدد الأربعين له تأثير فيما يقصد به الجماعة باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کے مقاصد میں چالیس کی تعداد کا عمل دخل ہے
حدیث نمبر: 5621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَا: ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ لَهُ قَدِ اجْتَمَعُوا فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: يَقُولُ: وَهُمْ أَرْبَعُونَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: اخْرُجُوا بِهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
کریب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا بیٹا قدید یا عسفان نامی جگہ پر فوت ہو گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے کریب! دیکھو لوگ جمع ہو گئے ہیں؟ میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہو چکے تھے۔ میں نے ان کو خبر دی تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ چالیس افراد ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: جنازہ لے چلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو مسلمان بندہ فوت ہو جائے اور اس کے جنازہ پر چالیس افراد ہوں جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو ان کی سفارش اللہ قبول فرما لیں گے۔“