حدیث نمبر: 5618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ. ⦗٢٥٦⦘ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَإِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ بِمَعُونَةِ الِاثْنَيْ عَشَرَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُحْبَتِهِ أَوْ عَلَى أَثَرِهِمْ إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُقْرِئَ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ، ثُمَّ عَدَدُ مَنْ صَلَّى بِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَذْكُورٌ فِي حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَقَامَهَا مُصْعَبٌ بِإِشَارَةِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَنُصْرَتِهِ إِيَّاهُ.
حافظ ثناء اللہ

نفیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے معقل بن عبید اللہ رحمہ اللہ کے سامنے زہری رحمہ اللہ سے قراءت کی، پھر اس حدیث کو ذکر کیا، یہ اثر منقطع ہے۔ اگر صحیح ہو تو اس سے مراد بارہ سردار جنہیں ان کے ساتھ یا ان کے پیچھے مدینہ روانہ کیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کو قرآن اور نماز پڑھائیں۔ پھر وہ تعداد جنہوں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی وہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے، سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے حکم اور مدد سے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے قائم کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5618
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن سعد في الطبقات 3/118»