السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: العدد الذين إذا كانوا في قرية وجبت عليهم الجمعة باب: ان افراد کی تعداد جن کے کسی بستی میں ہونے سے ان پر جمعہ فرض ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 5617
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنِ عَدِيٍّ، أنبا ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللهِ الدَّوْسِيَّةِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ قَرْيَةٍ فِيهَا إِمَامٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا إِلَّا أَرْبَعَةً ". حَتَّى ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً ". الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَتْرُوكٌ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ضَعِيفٌ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ فِي الْخَمْسِينَ لَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ وَيُذْكَرُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، " أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ حِينَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ جَمَّعَ بِهِمْ وَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا "..حافظ ثناء اللہ
(الف) زہری رحمہ اللہ ام عبداللہ دوسیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر اس بستی پر جمعہ واجب ہے جس میں امام ہو، اگرچہ وہ صرف چار ہی ہوں۔“ یہاں تک کہ نبی ﷺ نے تین کا ذکر فرمایا۔
(ب) زہری رحمہ اللہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو مدینہ روانہ کیا تو وہ بارہ آدمیوں کو جمعہ پڑھاتے تھے۔
حکم بن عبداللہ متروک ہے، اور معاویہ بن یحییٰ ضعیف ہے، اور یہ روایت زہری سے صحیح نہیں، اور اس باب میں پچاس افراد کے بارے میں بھی ایک حدیث مروی ہے جس کی سند صحیح نہیں۔