السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أجمع إقامة أربع أتم باب: جس نے چار دن قیام کا پختہ ارادہ کر لیا تو وہ نماز پوری پڑھے
أَخْبَرَنَا بِهِ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ الْقَزَّازُ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقْصُرُ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَأَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ.یحییٰ بن ابی اسحاق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو واپسی تک آپ ﷺ ”دو دو رکعات پڑھتے رہے“، راوی کہتے ہیں میں نے کہا: ”تم مکہ میں کتنی دیر ٹھہرے؟“ انہوں نے فرمایا: ”دس دن۔“
نوٹ: دس دن ٹھہرنے سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مراد مکہ، منیٰ، اور عرفات میں ٹھہرنا ہے، اس لیے کہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ مکہ تشریف لائے جب ذوالحجہ کے چار دن گزر چکے تھے، پھر آپ ﷺ نے تین دن قیام کیا اور قصر فرماتے رہے۔ لیکن مکہ میں آنے کے دن کو شمار نہیں کیا؛ اس لیے کہ آپ ﷺ اس دن سفر میں رہے اور نہ ہی آٹھ ذوالحجہ کو شمار کیا ہے؛ کیونکہ اس دن آپ ﷺ منیٰ چلے گئے جہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز ادا کی۔ پھر طلوعِ شمس کے بعد عرفات آگئے۔ پھر غروبِ شمس کے بعد مزدلفہ آگئے، وہاں دو راتیں صبح تک گزاریں۔ پھر منیٰ آئے اور مناسک ادا کیے۔ پھر مکہ آ کر طواف کیا۔ پھر منیٰ آ کر تین دن قیام کیا، اس میں قصر کرتے رہے۔ پھر وادیِ محصب میں قیام کیا اور اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان کروایا۔ پھر نمازِ فجر سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر مدینہ کو چل دیے۔ آپ ﷺ نے چار دن کسی ایک جگہ قیام نہیں کیا اور آپ ﷺ قصر کرتے رہے۔