❮
❯
حدیث نمبر: 5456
" وَوَجَدْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَضَرَبَ لَهُمْ أَجَلًا ثَلَاثًا ". فَرَأَيْنَا ثَلَاثًا مِمَّا يُقِيمُ الْمُسَافِرُ، وَأَرْبَعًا كَأَنَّهَا بِالْمُقِيمِ أَشْبَهُ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يُقِيمَ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ كَانَ شَبِيهًا أَنْ يَأْمُرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ الْمُهَاجِرَ، وَيَأْذَنَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْيَهُودِ. قَالَ الشَّيْخُ: فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ

”اور ہم نے پایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے جلا وطن کیا اور ان کے لیے تین دن کی مہلت مقرر کی۔“ تو ہم نے سمجھا کہ تین دن اس مدت میں سے ہیں جس میں مسافر ٹھہرتا ہے، اور چار دن مقیم کے زیادہ مشابہ ہیں، کیونکہ اگر مسافر کے لیے تین دن سے زیادہ ٹھہرنا جائز ہوتا تو قرینِ قیاس تھا کہ نبی ﷺ مہاجر کو اس کا حکم دیتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہودیوں کو اس کی اجازت دیتے۔
شیخ فرماتے ہیں: رہی وہ حدیث جو آگے آ رہی ہے:

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5456
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم برقم 5389»