السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أجمع إقامة أربع أتم باب: جس نے چار دن قیام کا پختہ ارادہ کر لیا تو وہ نماز پوری پڑھے
حدیث نمبر: 5455
فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: " مَنْ أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ وَهُوَ مُسَافِرٌ أَتَمَّ الصَّلَاةَ ". قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن عبداللہ خراسانی نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ جو چار رات قیام کا ارادہ کرے اور وہ مسافر ہو تو نماز پوری پڑھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل علم کا یہی مذہب ہے۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے ”مناسک کی ادائیگی کے بعد مہاجرین کو تین دن قیام کی اجازت دی۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے لیے جلا وطنی کے بعد تین دن مقرر کیے۔ اس لحاظ سے مسافر اگر تین دن سے زیادہ کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ ان کے مشابہہ ہے جن کے بارے میں نبی ﷺ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا۔