السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أجمع إقامة أربع أتم باب: جس نے چار دن قیام کا پختہ ارادہ کر لیا تو وہ نماز پوری پڑھے
حدیث نمبر: 5454
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ضَرَبَ لِلْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ بِالْمَدِينَةِ إِقَامَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَتَسَوَّقُونَ بِهَا وَيَقْضُونَ حَوَائِجَهُمْ، وَلَا يُقِيمُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ، وَبِمِثْلِهِ أَجَابَ فِي الْجَدِيدِ: مَنْ أَجْمَعَ إِقَامَةَ أَرْبَعٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَقَدْ رُوِّيتُ فِي ذَلِكَ أَحَادِيثَ. مِنْهَا: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
اسلم فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے لیے مدینہ میں بازار لگانے کے لیے تین دن قیام کی اجازت دی۔ وہ اپنی ضروریات بھی پوری کرتے تھے۔ تین دن کے بعد کسی کو قیام کی اجازت نہ تھی۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم قول میں فرمایا، اور جدید قول میں بھی یہی جواب دیا: جو چار دن قیام کا ارادہ کرے وہ پوری نماز ادا کرے گا۔ اور اس بارے میں مجھے کئی احادیث روایت کی گئی ہیں، ان میں سے ایک قتادہ کے واسطے سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ہے۔