السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5430
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالُوا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ صَلَّيْتِ رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّهُ لَا يَشُقُّ عَلَيَّ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ دو رکعات پڑھیں، تو فرمانے لگیں: اے بھانجے! یہ میرے اوپر شاق نہیں ہے۔