السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5429
وأَخْبَرَنَا عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، ثنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ فَأَفْطَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُمْتُ، وَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، وَقَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ فَقَالَ: " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ کے لیے نکلی، رسول اللہ ﷺ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، آپ ﷺ نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، اور آپ نے قصر کی جبکہ میں نے پوری پڑھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“