کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5419
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَنْ تَقْصُرُوا} [النساء: ١٠١] مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمْ، قَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ عَلَيْكُمْ بِهَا، فَاقْبَلُوهَا ".
حافظ ثناء اللہ
یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ﴾ [سورة النساء: 101] ”نماز قصر کرو اگر تمہیں فتنہ کا ڈر ہو“؟ انہوں نے فرمایا: میں بھی حیران ہوا تھا جیسے آپ حیران ہوئے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تمہارے اوپر کیا ہے اس کو قبول کرو۔“
حدیث نمبر: 5420
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} [النساء: ١٠١] وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَمَا شَأْنُ التَّقْصِيرِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هِيَ؟ فَقَالَ: " هِيَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ". كَذَا قَالَ ابْنُ بَابَاهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ كَمَا مَضَى وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَزَعَمَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ أَنَّهُ ثَلَاثَةٌ: ابْنُ بَابِيٍّ، وَابْنُ بَابَا، وَابْنُ بَابَيْهِ، وَالَّذِي يَرْوِي عَنْهُ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَابَيْهِ، وَذَهَبَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ إِلَى أَنَّهُمْ وَاحِدٌ وَهُوَ مَكِّيٌّ، وَعَلَى مِثْلِ قَوْلِهِ دَلَّ كَلَامُ الْبُخَارِيِّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة النساء: 101] ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز کو قصر کرو اگرچہ تمہیں خوف ہو کہ کافر لوگ فتنہ میں ڈال دیں گے“ لوگ تو امن میں ہیں پھر قصر کیسی؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں بھی تیری طرح حیران ہوا تھا، میں نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تمہارے اوپر کیا ہے تم اس کو قبول کرو۔“
حدیث نمبر: 5421
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَدَلَّ قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ الْقَصْرَ فِي السَّفَرِ بِلَا خَوْفٍ صَدَقَةٌ مِنَ اللهِ، وَالصَّدَقَةُ رُخْصَةٌ لَا حَتْمٌ مِنَ اللهِ أَنْ يَقْصُرُوا، وَدَلَّ عَلَى أَنْ يَقْصُرُوا فِي السَّفَرِ بِلَا خَوْفٍ إِنْ شَاءَ الْمُسَافِرُ، وَإِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَمَّ فِي السَّفَرِ وَقَصَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے کہ ”سفر میں بلا خوف قصر کرنا یہ اللہ کا صدقہ ہے“، نماز کا قصر کرنا لازم نہیں اور سفر میں بلا خوف قصر اگر مسافر چاہے تو کر لے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح نماز پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 5422
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْمَحَامِلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ، وَيُفْطِرُ وَيَصُومُ ". قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَلِهَذَا شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ وَطَلْحَةِ بْنِ عَمْرٍو، وَكُلُّهُمْ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح پڑھتے تھے اور روزہ رکھتے اور افطار بھی کرتے۔
حدیث نمبر: 5423
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجْنَا إِلَى مَكَّةَ أَرْبَعًا حَتَّى نَرْجِعَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطا رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ کا سفر کرتے تو واپس آنے تک نماز چار رکعات پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5424
فَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْكُدَيْمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَيُتِمُّ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنْ مُغِيرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 5425
فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا: ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَتَمَّ وَقَصَرَ، وَصَامَ وَأَفْطَرَ فِي السَّفَرِ ". وَقَدْ قَالَ: عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ الْمُرْهِبِيُّ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سفر میں قصر کرتے اور کبھی مکمل نماز بھی پڑھ لیتے، اور روزہ رکھتے اور کبھی افطار بھی فرما لیتے۔
حدیث نمبر: 5426
أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، " أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُصَلِّي فِي السَّفَرِ الْمَكْتُوبَةَ أَرْبَعًا ". وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَيْبَانَ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ فَذَكَرَهُ. وَهُوَ كَالْمُوَافِقِ لِرِوَايَةِ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، وَإِنْ كَانَ فِي رِوَايَةِ دَلْهَمٍ زِيَادَةُ سَنَدٍ، وَلِسَنَدِهِ شَاهِدٌ قَوِيٌّ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ..
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5427
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، قَالَ، وَثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں عمرہ کے لیے گئی، رسول اللہ ﷺ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، آپ ﷺ نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں، آپ ﷺ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا اور آپ ﷺ نے نماز قصر کی جبکہ میں نے پوری پڑھی! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“
حدیث نمبر: 5428
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّبَّعِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ، وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ، فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَى مَكَّةَ قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ، وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، قَالَ: " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ ". وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ ". قَالَ عَلِيٌّ: الْأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عمرہ کیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھی۔ آپ ﷺ نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی اور آپ ﷺ نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا۔ جب میں مکہ واپس آئی تو میں نے کہا: ”میرے والدین آپ ﷺ پر قربان! آپ ﷺ نے نماز قصر کی جبکہ میں نے مکمل پڑھی اور آپ ﷺ نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا اور مجھ پر عیب نہیں لگایا۔“
حدیث نمبر: 5429
وأَخْبَرَنَا عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، ثنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ فَأَفْطَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُمْتُ، وَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، وَقَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ فَقَالَ: " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عمرہ کے لیے مدینہ سے مکہ کا سفر کیا۔ جب مکہ پہنچیں تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی اور آپ نے افطار کیا جب میں نے روزہ رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم نے اچھا کیا،“ اور آپ نے مجھ پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
شیخ فرماتے ہیں! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے قول «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ» ”نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی“ کے مطابق مکمل پڑھتی تھیں۔
شیخ فرماتے ہیں! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے قول «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ» ”نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی“ کے مطابق مکمل پڑھتی تھیں۔
حدیث نمبر: 5430
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالُوا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ صَلَّيْتِ رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّهُ لَا يَشُقُّ عَلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ دو رکعات پڑھیں، تو فرمانے لگیں: اے بھانجے! یہ میرے اوپر شاق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5431
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٢٠٥⦘ الْمِصْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ إِلْيَاسَ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الصَّلَاةَ حِينَ فُرِضَتْ كَانَتْ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ". قَالَ: فَأَخْبَرْتُهَا عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: إِنَّ عُرْوَةَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّ عَائِشَةَ " كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي السَّفَرِ " قَالَ: فَوَجَدْتُ عُرْوَةَ يَوْمًا عِنْدَهُ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ عَائِشَةَ؟ فَحَدَّثَ بِمَا حَدَّثَنِي بِهِ عُمَرُ فَقَالَ عُمَرُ: أَلَيْسَ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعًا فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: بَلَى.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نماز فرض کی گئی تو سفر و حضر میں دو دو رکعات تھیں۔ پھر سفر میں دو رکعات برقرار رکھ دی گئیں اور حضر کی نماز چار رکعات مکمل کر دی گئی۔ فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بتایا تو وہ فرمانے لگے: عروہ نے تو مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھا کرتی تھیں۔ ایک دن عروہ رحمہ اللہ کو میں نے ان کے پاس پایا۔ میں نے کہا: آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مجھے خبر دیں! انہوں نے مجھے ویسے ہی بیان کر دیا جیسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیان کیا تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تم نے بیان نہیں کیا کہ وہ سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں؟ کہنے لگے: کیوں نہیں۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تم نے بیان نہیں کیا کہ وہ سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں؟ کہنے لگے: کیوں نہیں۔
حدیث نمبر: 5432
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ خَشْرَمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ ". قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ عَائِشَةَ كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پہلے دو دو رکعات نماز فرض کی گئی، حضر کی نماز میں پھر اضافہ کر دیا گیا اور سفر کی نماز برقرار رکھی گئی۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا ہوا کہ وہ نماز مکمل پڑھتی ہیں؟ فرمایا: انہوں نے وہی تاویل کی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تاویل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: " صَلَّى بِنَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقِيلَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَكَذَلِكَ مُسْلِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان کی گئی تو انہوں نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پڑھا۔ اور فرمایا: میں نے منیٰ میں نبی ﷺ کے ساتھ دو رکعات پڑھیں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعات پڑھیں۔ میرا چار رکعات میں کوئی حصہ نہیں۔ میری دو رکعات ہی قبول ہوجائیں گی۔
حدیث نمبر: 5434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَاهُمْ، وَحَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَتَمُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ ". زَادَ عَنْ حَفْصٍ: " وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا "، زَادَ مِنْ هَهُنَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: " ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَلَوَدِدْتُ أَنَّ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ "، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ ⦗٢٠٦⦘ قُرَّةَ عَنْ أَشْيَاخِهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ صَلَّى أَرْبَعًا، فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ، ثُمَّ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا؟ قَالَ: " الْخِلَافُ شَرٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو دو رکعات پڑھیں۔“ اس میں حفص نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع میں بھی (دو ہی پڑھیں) پھر انہوں نے نماز مکمل کی۔ اس روایت میں یہاں ابی معاویہ سے کچھ زائد بیان کیا گیا ہے کہ: ”راستے جدا ہو گئے۔ میں چاہتا ہوں کہ چار رکعات ہوں، لیکن دو رکعات ہی قبول کی جائیں گی۔“ معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعات پڑھیں، تو ان سے کہا گیا کہ آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر تو عیب لگاتے تھے اور اب خود چار رکعات پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اختلاف بری چیز ہے۔“
حدیث نمبر: 5435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، بِوَاسِطَ، عَنْ أَشْيَاخِ الْحِيِّ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ الظُّهْرَ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ فَعَابَ عَلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي رَحْلِهِ الْعَصْرَ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ وَصَلَّيْتَ أَرْبَعًا؟ قَالَ: " إِنِّي أَكْرَهُ الْخِلَافَ " وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرۃ اپنے قبیلے کے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے ان پر عیب لگایا۔ پھر انہوں نے اپنے گھر عصر کی نماز چار رکعات پڑھائی۔ میں نے کہا: آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب لگاتے ہو اور خود چار رکعات پڑھتے ہو؟ فرمانے لگے: میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 5436
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ، فَلَمَّا دَخَلَ مَسْجِدَ مِنًى فَقَالَ: " كَمْ صَلَّى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ " قَالُوا: أَرْبَعًا. فَصَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقُلْنَا: أَلَمْ تُحَدِّثْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَأَنَا أُحَدِّثُكُمُوهُ الْآنَ، وَلَكِنَّ عُثْمَانَ كَانَ إِمَامًا فَمَا أُخَالِفُهُ، وَالْخِلَافُ شَرٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب وہ مسجدِ منیٰ میں داخل ہوئے تو انہوں نے سوال کیا کہ امیر المؤمنین نے کتنی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: چار رکعات، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی چار رکعات پڑھ لیں۔ ہم نے کہا: آپ تو ہمیں نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ دو رکعات پڑھتے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی، تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، میں اب بھی تمہیں (یہی بات) بیان کر دیتا ہوں، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ امام ہیں اور میں ان کی مخالفت نہیں کرنا چاہتا اور اختلاف بری چیز ہے۔
حدیث نمبر: 5437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعْلِمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب، زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منیٰ میں نماز کو دیہاتیوں کی وجہ سے مکمل پڑھتے تھے، کیونکہ ان کا آنا زیادہ ہوتا تھا، اس غرض سے چار رکعات پڑھاتے تھے تاکہ ان کو معلوم ہو سکے کہ نماز چار رکعات ہیں۔
حدیث نمبر: 5438
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ السُّنَّةَ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ صَاحِبَيْهِ، وَلَكِنَّهُ حَدَثَ الْعَامَ مِنَ النَّاسِ، فَخِفْتُ أَنْ يَسَتَنُّوا ". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ غَيْرُ هَذَا، وَالْأَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ رَآهُ رُخْصَةً فَرَأَى الْإِتْمَامَ جَائِزًا كَمَا ⦗٢٠٧⦘ رَأَتْهُ عَائِشَةُ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مَعَ اخْتِيَارِهِمُ الْقَصْرَ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن حمید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منیٰ میں نماز مکمل پڑھتے تھے، پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! یقیناً رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دو ساتھیوں کا طریقہ ہی سنت ہے، لیکن اب لوگوں کا آنا عام ہوا تو میں ڈر گیا کہ لوگ اس کو سنت نہ بنا لیں۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں رخصت ہے اور مکمل بھی جائز سمجھتے تھے، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں رخصت ہے اور مکمل بھی جائز سمجھتے تھے، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا۔
حدیث نمبر: 5439
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ قَالَ: " أَقْبَلَ سَلْمَانُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالُوا: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " إِنَّا لَا نَؤُمُّكُمْ وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ، إِنَّ اللهَ هَدَانَا بِكُمْ " قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعًا، قَالَ: فَقَالَ سَلْمَانُ: " مَالَنَا وَلِلْمُرَبَّعَةِ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِينَا نِصْفُ الْمُرَبَّعَةِ، وَنَحْنُ إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجُ ". فَبَيَّنَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِمَشْهَدِ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةِ أَنَّ الْقَصْرَ رُخْصَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَرُوِّينَا عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَنَّهُمَا كَانَا يُتِمَّانِ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَيَصُومَانِ، وَرُوِّينَا جَوَازُ الْأَمْرَيْنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي قِلَابَةَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو لیلیٰ کندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے صحابہ کے ساتھ آئے جو سوار تھے، نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے کہا: اے ابو عبداللہ! آگے بڑھو، تو ابو عبداللہ کہنے لگے: نہ تو ہم تمہاری امامت کروائیں گے اور نہ ہی تمہاری عورتوں کے نکاح پڑھائیں گے، کیونکہ تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے۔ چنانچہ قوم کے ایک آدمی نے ان کو چار رکعات پڑھائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں چار سے کیا واسطہ؟ ہمیں تو دو رکعات ہی کافی تھیں اور رخصت پر عمل زیادہ احتیاط والی بات ہے۔ ان صحابہ کی موجودگی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قصر رخصت ہے۔
(ب) مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہما دونوں حضرات سفر میں مکمل نماز پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے۔
(ب) مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہما دونوں حضرات سفر میں مکمل نماز پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5440
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّا مَعَاشِرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا نُسَافِرُ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، وَمِنَّا الْمُتِمُّ وَمِنَّا الْمُقْصِرُ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، وَلَا الْمُقْصِرُ عَلَى الْمُتِمِّ، وَلَا الْمُتِمُّ عَلَى الْمُقْصِرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صحابہ کی جماعت میں سفر کرتے تھے تو بعض قصر اور افطار کرنے والے ہوتے اور بعض نماز مکمل پڑھتے اور روزہ بھی رکھتے تھے، تو روزہ رکھنے والا افطار کرنے والے پر اور افطار کرنے والا روزہ رکھنے والے پر اور قصر کرنے والا نماز مکمل پڑھنے والے پر اور مکمل پڑھنے والا قصر کرنے والے پر عیب نہیں لگاتا تھا۔