السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٢٠٥⦘ الْمِصْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ إِلْيَاسَ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الصَّلَاةَ حِينَ فُرِضَتْ كَانَتْ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ". قَالَ: فَأَخْبَرْتُهَا عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: إِنَّ عُرْوَةَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّ عَائِشَةَ " كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي السَّفَرِ " قَالَ: فَوَجَدْتُ عُرْوَةَ يَوْمًا عِنْدَهُ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ عَائِشَةَ؟ فَحَدَّثَ بِمَا حَدَّثَنِي بِهِ عُمَرُ فَقَالَ عُمَرُ: أَلَيْسَ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعًا فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: بَلَى.عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نماز فرض کی گئی تو سفر و حضر میں دو دو رکعات تھیں۔ پھر سفر میں دو رکعات برقرار رکھ دی گئیں اور حضر کی نماز چار رکعات مکمل کر دی گئی۔ فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بتایا تو وہ فرمانے لگے: عروہ نے تو مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھا کرتی تھیں۔ ایک دن عروہ رحمہ اللہ کو میں نے ان کے پاس پایا۔ میں نے کہا: آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مجھے خبر دیں! انہوں نے مجھے ویسے ہی بیان کر دیا جیسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیان کیا تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تم نے بیان نہیں کیا کہ وہ سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں؟ کہنے لگے: کیوں نہیں۔