السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5428
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّبَّعِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ، وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ، فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَى مَكَّةَ قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ، وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، قَالَ: " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ ". وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ ". قَالَ عَلِيٌّ: الْأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ.حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عمرہ کیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھی۔ آپ ﷺ نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی اور آپ ﷺ نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا۔ جب میں مکہ واپس آئی تو میں نے کہا: ”میرے والدین آپ ﷺ پر قربان! آپ ﷺ نے نماز قصر کی جبکہ میں نے مکمل پڑھی اور آپ ﷺ نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا اور مجھ پر عیب نہیں لگایا۔“