السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5427
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، قَالَ، وَثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں عمرہ کے لیے گئی، رسول اللہ ﷺ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، آپ ﷺ نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں، آپ ﷺ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا اور آپ ﷺ نے نماز قصر کی جبکہ میں نے پوری پڑھی! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“